Why People Face Loss in Stocks Trading Part 3

December 30, 2014 10:51 amComments Off on Why People Face Loss in Stocks Trading Part 3Views: 1888

وارن بوفے سے ایک دفعہ پوچھا گیا کہ آپ کس نظریے سے سٹاک مارکیٹ میں انویسٹ کرتے ہو تو اس نے بڑا ہی زبردست جواب دیا۔ “میں کبھی shootبھی سٹاک مارکیٹ میں پیسہ کمانے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ میں اس توقع کے ساتھ انویسٹ کرتا ہوں کہ سٹاک مارکیٹ میری انویسٹمنٹ کے اگلے ہی روز اگلے پانچ سالوں کے لیے بند ہو سکتی ہے”۔ میں نے اس بات پہ شروع میں جب غور کرنا شروع کیا تو یہ بات میرئے کچھ پلے نہیں پڑ رہی تھی۔ مگر جب اس بات کا عقدہ کھلا تو مجھے اپنے ہی ایک نظریے کو تقویت ملتی نظر آئی جس کا کچھ ذکر میں اس تحریر کے پچھلے حصے میں بھی کر چکا ہوں کہ ٹریڈ کرنے سے پہلے اس کا منافع نہیں بلکہ متوقع نقصان پہلے نظر میں رکھیں ۔ میرے اس نظریے کا ایک پہلو کچھ اس طرح بھی تھا۔ایک وقت میں جب میں پاکستان کے سب سے بڑے فاریکس بروکریج ہاؤس میں برانچ مینجر تھا تو میرے سٹاف کے لڑکے کافی سارے ایسے کلائینٹس کو گھیر کے لے آتے جن کے پاس سیونگ ہی چار پانچ لاکھ روپے کی ہوتی تھی اور لڑکے انہیں اس طرح مارکیٹنگ کے سانچے میں ڈھال کے لاتے تھے ۔ کہ وہ بیچارے سادہ لوح لوگ وہی جمع پونجی فاریکس مارکیٹ میں انویسٹ کرنے کو تیار ہو جاتے تھے۔ جب اکاونٹ کھولنے کے لیے ان انویسٹرز کو مجھ سے ملوایا جاتا تو میں ان سے ایک سوال کرتا تھا کہ اگر یہ پیسہ مارکیٹ میں ڈوب گیا یعنی آپ کو نقصان ہو گیا تو پھر آپ کیا کرو گے جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا تھا۔ تب میں ان کو ایک مشورہ دیتا تھا کہ یہ فاریکس مارکیٹ ہے سٹاک مارکیٹ نہیں جہاں نقصان بھی قسطوں میں ہوتا ہے مطلب آہستہ آہستہ مارکیٹ گرتی یا اٹھتی ہے۔یہ مارکیٹ تھوڑے پیسوں سے کام کرنے والے کے لیے نہیں ہے آپ کے لیے میرا مشورا یہی ہے کہ آپ اس مارکیٹ میں انویسٹ مت کرو۔ بلکہ ان پیسوں سے کسی غریب بچی کی شادی کروا دو ۔ جس سے آپ کو ساری عمر ایک احساس رہے گا کہ آپ نے ایک اچھا کام کیا اور اس بچی کے گھر والے آپ کو عمر بھر دعائیں دیں گے۔ نہ آپ کا نقصان ہو گا نہ آپ مجھے اور میرے اس لڑکے کو بد دعائیں دو گےـ(میری اس حرکت با برکت کی وجہ سے اکثر اوقات میری اعلیٰ انتظامیہ کا اعتاب بھی مجھ پر نازل ہو جایا کرتا تھا۔)۔اب دوسری منظق جو میں انہیں سمجھانے کی  کوشش کرتا تھا جو اکثر لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی تھی وہ یہ تھی کہ آپ اللہ کی راہ میں جب یہ پیسہ لگاؤ گے تو وہ آپ کو دس دنیا میں اور ستر آخرت میں عطا کرے گا تو جب وہ دس گنا آپ کے پاس آجائیں گے تو آپ میرے پاس آجانا میں آپ کا اکاونٹ کھول دونگا۔میری اس بات کو سن کر اکثریت مجھے گھورا کرتی تھی اور فورا ان کا جواب یہ ہوتا تھا کہ یہ پیسہ تو میں نے اپنے بچوں کے فیوچر کے لیے رکھا ہوا ہے۔اسی لیے تو انویسٹ کر رہا ہوں کہ ان کے لیے کچھ مزید کما سکوں ۔میں ان کلائینٹس کو تو کسی طرح منا کے واپس بھیج دیا کرتا تھا مگر اس سے اگلی بات ان کو نہیں بتایا کرتا تھا۔ مگر آج آپ لوگوں کو بتائے دیتا ہوں ۔ضروتیں انسان میں ڈر پیدا کرتی ہیں اور ڈر انسان کو کمزور اور جذباتی کر دیتا ہے۔نہ تو ڈر اور نہ ہی جذبات لے کر آنے والے حضرات مارکیٹ میں کبھی کامیاب ہوا کرتے ہیں۔ڈر انسان کو اپنے اصولوں پر چلنے سے روکتا ہے۔اور جب ٹریڈنگ میں طے شدہ اصولوں سے انسان ایک بار ہٹ جاتا ہے تو پھر نقصان لازم و ملزوم کی طرح وارد ہوتا ہے۔اپنے پرافٹ ٹارگٹ اور طے شدہ نقصان  سے پہلےنکل جانے پر مجبور بھی آپ کو ڈر ہی کرتا ہے۔اور جب ایک مناسب نسبت سے ٹریڈنگ نہ کی جاے تو دس ٹریڈز کا منافع انسان ایک ہی ٹریڈ کے نقصان میں اڑا دیتا ہے۔بس اسی لیے کامیاب ٹریڈرز کبھی بھی سٹاک مارکیٹ میں وہ پیسہ  لگانا پسند نہیں کرتے جس پیسے کی ان کو یا ان کے خاندان کو ضرورت ہو۔وارن بوفے کی بات سے آپ کو بھی اتفاق کرنا پڑے گا کہ اگر مارکیٹ میں نقصان کی شرح اس قدر بڑھ گئی جس کی آپ کو توقع ہی نہیں تھی تو پھر آپ کو آپ کا ڈر مغلوب کر لے گا۔آپ جلد بازی میں نئے فیصلے کرنے پر مجبور ہوں کے اور جلد بازی میں کیے ہوئے یہ فیصلے آپ کا نقصان کم کرنے کی بجاے مزید بڑھا دیں گے۔جس پیسے کی آپ کو دو ماہ بعد ضرورت ہو گی وہ پیسہ آپ کو جذبا تی اور ڈرپوک بناے گا اور آپ تین ماہ کے لئے ٹریڈکبھی نہیں کرنے دے گا اور مجبورا آپ نقصان کر رہے ہوں گے۔مگر ہمارے یہاں انویسٹمنٹ ہوتی ہی ایسے ہے کہ اکثر انویسٹر حضرات اپنے بھائی ،دوست یا رشتہ داروں سے پکڑ کے پیسہ مارکیٹ میں انویسٹ کرتے ہیں اور پھر زیادہ سے زیادہ کمانے کے لالچ میں ٹریڈنگ میں نقصان کرتے چلے جاتے ہیں۔ اگر سٹاک مارکیٹ میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ایک اصول لکھ کہ جیب میں ڈال لیں کہ مارکیٹ میں صرف وہ پیسہ انویسٹ کریں جس کی آپ کو کم از کم اگلے پانچ سال تک ضرورت نہیں ہے تبھی آپ کمانے کی بنیاد رکھ پائیں گے۔

یہ تو تھی آغاز کی باتیں کہ ٹریڈنگ کا آغاز کس پیسے سے کرنا ہے مگر اب بات ہو جائے ذرا چند ایک ان معروف غلطیوں کی جو ہمارا تقریبا ہر انویسٹر کرتا ہے۔ میں نے ہزار ہا بار یہ دیکھا کہ سانپ گزر چکا ہوتا ہے اور لوگ لکیر پیٹ رہے ہوتے ہیں مجھے اب بھی آے روز کئی ایسی فون کالز آتی ہیں جن میں لوگ اکثر ایک ہی بات کا زکر کرتے ہیں کہ جناب ہم فلاں شئیر لیکر پھنس گئے ہیں ۔تو میں جب ان سے پوچھتا ہوں کہ آپ نے یہ شئیر خریدا کیوں تھا تو اکثر اوقات جواب یہ ملتا ہے کہ یہ شئیر پہلے تین یا چار بار اسی قیمت سے واپس چلا جاتا تھا اس لیے اس بار ہم نے بھی اٹھا لیا۔مگر شومئی قسمت کہ جب ہم نے اٹھا یا تو اس ظالم نے مڑ کر بھی اس لیول کی طرف نہیں دیکھا۔اب کچھ لوگ تو اس امر کو بھی اپنی قسمت سے ہی تعبیر کرنا شروع کردیتے ہیں ۔ یا پھر کچھ حضرات ایسے بھی ہوتے ہیں جو یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ گرا ہی اس لیے ہے کہ میں نے جو خرید لیا تھا۔اس صورتحال کی وضاحت میں ایک مثال سے کرنا زیادہ مناسب سمجھوں گا۔ ہوتا کچھ یوں ہے کہ ایک شئیر میں ایک ریلی شروع ہوتی ہے اور دس  روپے سے اٹھ کر پندرہ روپے تک چلا جاتا ہے وہاں سے اس میں ایک تصحیح کا عمل شروع ہوتا ہے اور وہ واپس بارہ روپے کے پاس آ جاتا ہے اب جب وہ بارہ روپے سے واپس مڑتا ہے تو ہمارا نویسٹر انتظار کرتا ہے کہ یہ مزید گرے گا مگر وہ شئیر واپس ساڑھے تیرہ یا چودہ پر چلا جاتا ہے اب وہ شیئر پھر واپس آتا ہے اور دوبارہ بارہ روپے کے پاس آ جاتا ہے انویسٹر پھر انتظار کرتا رہتا ہے کہ یہ مزید گرے گا اب کی بار تو مگر اس بار بھی ایسا نہیں ہوتا اور وہ واپس چلا جاتا ہے جب وہ شئیر تیسری بار نیچے آتا ہے  تو کچھ لوگ اس کو خرید لیتے ہیں اب اس بار اگر وہ واپس ساڑھے تیرہ یا چودہ کی طرف چلا گیا تو اگلی بار تو ہر شخص اس کو خریدنے کے لیے پر تول رہا ہوتا ہے کہ اب کی بار یہ سالہ بارہ روپے کےپاس ملے تو سہی ذرا اب کی بار نہیں چھوڑنا اس کو۔اور جیسے ہی اس شئیر کو ہر شخص خرید لیتا ہے وہ گرنا شروع ہو جاتا ہے اور پھر سب مل کے روتے ہیں ۔ ا ب اس سارے معاملے میں غلطی کہاں ہوتی ہے وہ اکثریت کو پتا ہی نہیں ہوتا۔کیونکہ پاکستان میں ہر شخص یہ تو ضرور سوچ رہا ہوتا ہے  کہ فلاں شئیر اتنا اوپر چلا گیا ہے اب اس میں تصحیح لازم ہے مگر یہ کوئی نہیں سوچتا کہ اتنا گرنے کے بعد اس شئیر کو تصحیح کے لیے تھوڑا اب اٹھنا بھی چاہیے۔اور جب وہ شئیراپنی دونوں اطراف کی تصحیح پوری کرنے کے بعد تیسری بار نیچے آتا ہے تو اکثر لوگ یہ سوچ کر اس کو خرید لیتے ہیں کہ اب تو یہ ٹرپل باٹم سے واپس مڑ ہی جاے گا۔اور کبھی کبھار ان کا یہ تکا کام بھی کر جاتا ہے مگر جو لوگ دوبارہ اسی لیول پر آنے پر خرید لیتے ہیں انہیں بالکل بھی یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ اب کی بار مارکیٹ مومینٹم بنا کے آ رہی ہے اس لیے اب کی بار یہ باٹم ضرور ٹوٹ جاے گا کیونکہ انہوں نے اس چیز کو کبھی سیکھا ہی نہیں ہوتا اس لیے وہ لوگ کم علمی کی وجہ سے مارے جاتے ہیں۔تو میری اپنے قارئین سے یہ گزارش ہے کہ کبھی ایک ہی لیول پر آنے پر تیسری سے چوتھی بار مارکیٹ میں اندھا دھند خریداری سے جتنا ہو سکے اجتناب کیا کریں۔ کیونکہ ڈبل باٹم اور ٹرپل باٹم اکیلے کبھی بھی مارکیٹ کی سمت کو تبدیل نہیں کر سکتے ہو سکتا ہے کہ آپ یہ دیکھ رہے ہوں کہ یہ لیول ٹرپل باٹم ہے مگر مارکیٹ جو پندرہ سے گرنے کے بعد واپس ساڑھے تیرہ گئی تھی وہ مزید گرنے کے لیے اپنی تصحیح پوری کرکے آ رہی ہو۔ انشاءاللہ اگلے حصے میں تصحیح یا کوریکشن کے حوالے سے زرا تفصیل سے بات کروں گا تاکہ قارئین کو پتہ چل سکے کہ اصل میں تصحیح کیا چیز ہے اور تصحیح کے بعد کے عوامل کونسے ہیں ۔ کیونکہ ہمارے تقریبا تما م انویسٹر حضرات تصحیح کا رٹہ تو لگاتے ہیں مگر سب سے زیادہ نقصان بھی اسی وجہ سے ہی کر بیٹھتے ہیں جب اعدادوشمار کے بغیر خود سے ہی یہ تصور کربیٹھتے ہیں کہ اس شئیر میں اب تصحیح مکمل ہو چکی ہے۔

انشاءاللہ اگر زندگی نے موقع دیا تو آگے آنے والے حصوں میں ہم کامیابی کی مزید گتھیاں کھولیں گے۔مگر کامیابی کا سب سے آسان نسخہ آج بھی لیتے جائیں ۔وہ یہ کہ دعا کو شامل حال رکھیں خدا سے تجارت کریں۔میرے پچھلے پانچ سالوں میں مجھے جب بھی کبھی کوئی کام کرنا ہوا ہے تو ہمیشہ میں نے ایک بات سے اس کام کا آغاز کیا ہےخدا سے دعا کی ہے یا الٰہی تو میرا یہ کام کر دے میں تیرے بندوں کے لیے تیری دی ہوی استطاعت سے یہ کر دونگا۔پچھلے پانچ سالوں میں مجھے جب بھی روپے پیسے کی ضرورت پڑی ہے تو میں نے خدا سے یہ ہی دعا کی ہے کہ اے پروردگار تو اگر مجھے اتنے پیسے عطا کرے گا تو اس میں سے میں تیری راہ میں اتنے فیصد خرچ کر دونگا۔ اور یقین مانیے میرے پاک پروردگار نے مجھے کبھی بھی خالی ہاتھ نہیں لوٹایا۔آپ بھی کر کے کے دیکھیے انشاءاللہ آپ کو بھی کامیابی ضرور ملے گی۔(جاری ہے۔۔۔۔)۔

For Feed back send us email admin@noormaier.net

Also Read: Part 1

Also Read: Part 2

Also Read: Part 4

Comments

comments

Comments are closed