Why People Face Loss in Stocks Trading Part 2

December 28, 2014 8:53 amComments Off on Why People Face Loss in Stocks Trading Part 2Views: 2215

سٹاکس ٹریڈنگ ایک کاروبار تھا مگر پاکستان میں اسے جوا بنا دیا گیاہے۔ لوگ کاروبار سمجھ کہ نہیں شئیرز کو لاٹری کا ٹکٹ سمجھ کے shootخریدتے ہیں۔ ہماراا نویسٹر ٹریڈنگ کو قسمت سے تعبیر کرتا ہے۔اگر ٹریڈنگ کے دوران کسی ٹریڈ میں کچھ منافع کمانے میں کامیاب ہو جائیں تو وہ لکی ڈے کہلاتا ہے۔ورنہ اکثر سننے کو یہی ملتا ہے کہ اس کاروبار سے منافع اپنی قسمت میں ہی نہیں یا پھر یوں کہہ لیں کہ یار سب قسمت کا کھیل ہے۔نفع نقصان کی یہ آنکھ مچولی کچھ دن اسی طرح چلتی رہتی ہے اور آخر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سارا کیپٹل نقصان میں ختم ہو جاتا ہے اور جاتے ہوئے لوگوں کے اکثر تاثرات یہ ہوتے ہیں کہ اس کاروبار سے کوئی کما ہی نہیں سکتا ۔ مگر حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ ایک طرف وہی شخص اسے کاروبار کہہ رہا ہوتا ہے اور دوسری طرف اس کا بیان یہ ہوتا ہے کہ یہاں سے کما کوئی نہیں سکتا۔کیونکہ کاروبار کا تو ایک ہی اصول پڑھایا جاتا ہے کہ اگر آپ منافع کما رہے ہو تو کہیں نہ کہیں بیٹھا کوئی شخص ضرور نقصان کر رہا ہو گا اور اگر آپ نقصان کر رہے ہو تو کوئی آپ کا وہی نقصان منافع کی صورت میں حاصل کر رہا ہو گا۔انسان خود ہی کنفیوژ ہو چکا ہوتا ہے۔ میری سمجھ میں تو ایک ہی وجہ آئی ہے نقصان کی ۔ اور وہ یہ کہ دولت کا ایک اصول ہے کہ یہ نا اہل لوگوں سے اہل لوگوں کی طرف اپنا سفر جاری رکھتی ہے۔اب جو شخص نقصان کر رہا تھا وہ ٹھہرا نا اہل اور جس نے منافع کمایا وہ ٹھہرا اہل۔

اب سٹاک مارکیٹ میں اہل لوگوں کی بھی دو اقسام پائی جاتی ہیں ایک تو وہ لوگ جنہوں نے مناسب ریسرچ کے بعد مارکیٹ میں انویسٹمنٹ کی اور اپنے علم سے مارکیٹ سے منافع کمایا اب بدقسمتی سے اس قماش کے لوگوں کی تعداد پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں آٹے میں نمک کے برابر ہی ہے اور عرف عام میں ان لوگوں کو مگر مچھ،پلیرز یا پھر کھلاڑی کہا جاتا ہے، اور دوسرے وہ جنہوں نے انویسڑز کو مائل کیا کہ وہ مارکیٹ میں کچھ نہ جانتے ہوئے بھی انویسٹمنٹ کریں کیونکہ وہ ہیں نہ ان کی رہنمائی کرنے کے لیے ۔ یعنی بروکر حضرات۔ اب اس قبیل کے لوگوں کی پاکستان میں کمی نہیں ہے۔ بعض قارئین اس وقت حیران ہو رہے ہوں گے کہ بروکر حضرات تو اپنا کمیشن چارج کرتے ہیں سروس چارجز لیتے ہیں وہ بھلا انویسٹر کے نقصان سے خا ک کمائیں گے۔تو اپنے ان بھولے قارئین کے علم میں اضافے کے لئے عرض کرتا چلوں کہ اس وقت پاکستان کی مارکیٹ میں انویسڑ کے نقصان کا سب سے زیادہ فائدہ یہی قبیلہ اٹھا رہا ہے۔میں اپنے تجربے کی بنیاد پر بڑے وثوق سے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان کے فاریکس /کموڈیٹیزسیکڑ میں قانونی یا غیر قانونی طریقے سے کام کرنے والے بڑے بروکریج ہاوسز میں اس ٹریڈر (ایجنٹ)کو ناکام سمجھا جاتا ہے جو کلائینٹ کے بھیجے جانے والے فنڈز سے کم کمیشن کمپنی کو واپس کما کے دے۔ آسان بھاشا میں مثال سے وضاحت کئے دیتا ہوں۔ کہ اگر ایک انویسٹر دس ہزار ڈالر سے اکاونٹ کھولے تو اس کے اکاونٹ میں ٹوٹل فنڈز کے نقصان کے زمرے میں ختم ہو جانے تک بروکریج کمپنی کو کم از کم دس ہزار ڈالر کی رقم کمیشن کی صورت میں اس کلائینٹ کے اکاونٹ سے حاصل ہونی چاہئے ورنہ وہ ایجنٹ ایک ناکام ٹریڈر تصور کیا جاتا ہے اور اس بات کے قوی امکانات موجود ہوتے ہیں کہ اس ایجنٹ کو کمپنی ترقی دینے سے حتی الوسع اجتناب کرتی ہے۔ اگر ہم بات کریں سٹاک مارکیٹ کے بروکر حضرات کی تو یہ ابھی اتنے “پروفیشنل” نہیں ہوے ان کے یہاں یہ نسبت ابھی صرف پچاس فیصد سے تجاوز نہیں کر سکی۔مگر میرے قارئین کے لیے یہ بات بھی شائد ایک اچھنبے سے کم نہ ہوکہ پاکستان میں بروکر ز کی ایک ایسی نسل بھی موجود ہے جو صرف اور صرف اپنے کلائینٹس کو ٹریڈنگ کرواتی ہی اس لیے ہے تاکہ وہ اپنے کلائینٹ کے نقصان میں سے ایک مخصوص حصہ اپنے لیےکمیشن کے طور پر مختص کر سکے۔اس قبیل کے بروکر حضرات کے بارے میں آگے چل کے ذرا تفصیل سے بات کروں گا مگر فی الحال واپس مودے پہ آتے ہیں۔
سٹاک مارکیٹ میں اکثر لوگ پہلی کچھ ٹریڈز میں منا فع کمانے میں کامیاب ہو جایا کرتے ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ ان کا ڈر یا محتاط انداز ہوتا ہے کہ وہ لوگ زیادہ منافع کا لالچ نہیں کرتے ، اپنے کیپٹل کا بہت کم حصہ مارکیٹ میں انویسٹ کرتے ہیں یا پھر کسی مخصوص شئیر میں ہی سارا کیپٹل نہیں ڈالتے ان کے کمانے کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ انجانے میں سٹاکس ٹریڈنگ کے تین بڑے اصولوں پر کار بند ہوتے ہیں۔ مگر پھر وہی لوگ ان اصولوں کو بھول کر نقصان کی طرف قدم بڑھا دیتےہیں وہ مارکیٹ سے ہر پیسہ کمانا چاہتے ہیں ہر پیسہ کمانے سے میری مراد یہ ہے کہ وہ ہر شئیر کی انتہائی قیمت پر اس کو بیچنا پسند کرنے لگتے ہیں وہ زیادہ منافع کے لالچ میں زیادہ شئیرز خریدتے ہیں بعض لوگ اس مقصد کے لیے مارجن پر ٹریڈنگ کرنا شروع کر دیتے ہیں، ایک ہی شئیر یا ایک ہی قسم کے شئیرز میں سارا کیپٹل جھونک دیتے ہیں ۔اب یہاں سے زوال کا آغاز ہوتا ہے۔ اس کاروبار کا سب سے بڑا اصول یہ ہے کہ مارکیٹ سے اپنا حصہ لو اور نکل جاؤ کیونکہ اس مارکیٹ میں ٹاپ اور باٹم کسی کو نہیں ملتا اور میں نے اکثر کامیاب ٹریڈرز سے یہ بھی سنا ہے کہ کارنرز پہ کھیلنا بیوقوفوں کا وطیرہ ہوتاہے۔پاکستان میں لوگ انجانے میں مارکیٹ سے دشمنی مول لے لیتے ہیں مطلب یہ کہ وہ لوگ جو بھی شئیر خرید لیں وہ حد سے زیادہ پر امید اور پر اعتماد ہو جاتے ہیں کہ اب یہ شئیر ان کو منافع دئیے بغیر کہیں جا ہی نہیں سکتا اور اگر اس شئیر میں ان کو نقصان ہو ہی جائے تو پھر اس شئیر پر ٹیگ لگ جاتا ہے کہ مجھے اس شئیر میں کبھی منافع ہو ہی نہیں سکتا۔میں جب بھی اس شئیر کو لوں مجھے تو نقصان ہی ہوتا ہے۔مگر کبھی بھی اس نقصان کی حقیقی وجوہات پر غور کرنا پسند نہیں کیا جاتا۔اب اس دشمنی کا ایک اور پہلو لالچ کی صورت میں بھی اکثر سامنے آتا ہے انویسٹرز شئیرز خرید تو لیتے ہیں مگر خریدتے وقت ایک ہی پہلو مد نظر رکھتے ہیں کہ کہ اس شئیر سے اتنا منافع لینے کے بعد اس شئیر کو بیچ دیں گےلیکن شئیر کو خریدتے وقت کوئی بھی یہ سوچنا پسند ہی نہیں کرتا کہ اگر اس میں سے نقصان ہوا تو تب کتنا نقصان کرنے کے بعد اس شئیر کو بیچنا ہے۔اور پھر جب نقصان ہونا شروع ہوتا ہے تو کچھ ٹریڈرز تو تب تک پریشان ہی نہیں ہوتے جب تک اسی فیصد کیپٹل نقصان کی مد میں نہ چلا جائے اور باقی کے ٹریڈز ایک نہ سمجھ میں آنے والی منطق اپنا لیتے ہیں وہ شئیر کو دس روپے پر خریدتے ہیں جب وہ نو روپے کا ہو جاتا ہے تو فیصلہ کر لیتے ہیں کہ اب جب یہ شئیر نو روپے پچاس پیسے کا ہو جائے گا تو اس کو نقصان میں ہی نکال دونگا۔البتہ وہ شئیر نو روپے پچاس پیسے تک تو نہیں جاتا پر آٹھ روپے کا ضرور ہو جاتا ہے تو تب وہ یہ سوچنا شروع کر دیتے ہیں کہ اب اگر یہ شئیر آٹھ روپے پچاس پیسے تک بھی چلا گیا تو میں نکال دونگا ۔ مگر شومئی قسمت کہ وہ شئیر یوں ہی چلتے چلتے چھ روپے پر پہنچ جاتا ہے پر موصوف ابھی نقصان میں سے پچاس پیسے کم ہونے کا انتظار کرتے کرتے چار روپے کا نقصان کر چکے ہوتے ہیں جس شئیر کو دس سے بارہ فیصد کے منافع کے لیے خریدا جاتا ہے اس میں چالیس فیصد سے بھی زیادہ کا نقصان ہو چکا ہوتا ہے پر ہمارا نویسٹر ابھی بھی سوچ رہا ہوتا ہےابھی کچھ حضرات ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا وطیرہ ہی یہ ہوتا ہے کہ ایک بار ٹریڈ ڈال دی ہے اب اس کو تب ہی نکالنا ہے جب یہ منافع دے گی اور اسے ضد میں اپنا سارا کیپٹل نقصان میں گنوا بیٹھتے ہیں۔ابھی من کر رہا ہے کہ اس بیماری کا ایک آسان علاج بھی تجویز کرتا چلوں تا کہ میرے قارئین کو کچھ کمزوریوں پر قابو پانے کا فن بھی معلوم پڑتا رہے کیونکہ میں اپنے پاکستانی انویسٹر کے مزاج سے اچھی طرح واقف ہوں انہیں گیدڑ سنگھی،پھکی یا ٹپ چاہئیے ہوتی ہے مکمل علاج سے انہیں پرہیز کرنااچھا لگتا ہے۔ورنہ میرا اپنا طریقہ تو یہی ہے کہ سبھی خامیوں کی جانچ پڑتال کے بعد ہی کوئی علاج تجویز کرتا ہوں۔تو اپنے جلد باز ساتھیوں کے لیے مذکورہ بالا بیماری کا علاج ابھی بتائے دیتا ہوں ۔اب اس بیماری کا آسان ترین علاج تو یہ ہے کہ آپ ٹریڈ کرنے سے پہلے زرا سوچیں کہ اس ٹریڈ میں سے میں کتنا منافع کمانا چاہتا ہوں مثال کے طور پر آپ کا فیصلہ یہ ہوتا ہے کہ شئیر پرائس کا دس فیصد تو پھر ایک بات پلے سے باندھ لیں کہ اگر خریدنے کے بعد یہ شئیر تین فیصد گر گیا تو میں نقصان بک کر کے اس شئیر کو بیچ دونگا۔آسان بھاشا میں ایک اور مثال دیئے دیتا ہوں۔ آپ ایک شئیر خریدنے سے پہلے یہ سوچتے ہیں کہ مجھے اس شئیر میں سے تین روپے فی شئیر منافع چاہئے ۔تو پھر آپ کو یہ تہیہ کرنا ہو گا کہ اگر اس شئیر کی ٹریڈ میں مجھے ایک روپیہ فی شئیر نقصان ہو گیا تو میں اس شئیر کی ٹریڈ سے نقصان بک کر کے نکل جاونگا۔اب اس گیدڑ سنگھی کا فائدہ کیا ہو گا ذرا یہ بھی سن لیں۔ اب اس کا فائدہ یہ ہے کہ اگر آپ ایک مہینے میں دس ٹریڈز کرتے ہیں اور آپ کی دس میں سے ساٹھ فیصد ٹریڈز یعنی چھ ٹریڈز بھی غلط ہو جاتی ہیں تو آپ پھر بھی مہینے کہ آخر میں منافع میں ہی رہیں گے۔کیونکہ جو چھ ٹریڈز غلط ہوں گی ان میں آپ کو کل نقصان ہو گا چھ روپے مگر باقی کی جو چالیس فیصد ٹریڈز یعنی چار ٹریڈز منافع میں جائیں گی ان میں آپ کو نفع ہو گا بارہ روپے کا ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ چھ روپے کا نقصان پورا کرنے کے بعد بھی آپ کو چھ روپے کا منافع ملے گا مہینے کے اختتام پر۔اگر ٹریڈنگ کے حقیقی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوے میں بات کروں تو شائد میرئے کچھ قارئین کو یہ بات عجیب بھی لگے کہ ٹریڈ کرنے سے پہلے اس کا منافع نہیں بلکہ متوقع نقصان مدنظر رکھا جاتا ہے اور پھر اس متوقع نقصان کی شرح کے حساب سے متوقع منافع اگر 1:3کے اصول پر پورا اترتا ہو تبھی وہ ٹریڈ کی جاتی ہے ورنہ اس ٹریڈ سے پرہیز کیا جاتا ہے۔
انشاءاللہ اگر زندگی نے موقع دیا تو اگلے آنے والے مزید حصوں میں آپ لوگوں کو اور بہت کچھ بتانے کی کوشش کرونگا کہ سٹاک مارکیٹ میں نقصان کیوں ہوتا ہے بروکر آپ کے ساتھ کیا کھیل کھیلتا ہے اور آپ لوگ مارکیٹ سے کما کیسے سکتے ہیں کوشش کرونگا کہ یہ ثابت کر سکوں کہ آپ قابل اور اہل بن سکتے ہیں ۔ آپ اپنے فیصلے خود کر سکتے ہیں۔ مگر آپ کو صرف ایک بات پر یقین محکم رکھنا ہو گا کہ خالق کائنات نے آپ کو اشرف المخلوقات پیدا کیا ہے اور آپ کو اس لیے پیدا نہیں کیا گیا کہ آپ معجزات کا انتظار کریں بلکہ کامیاب ہونے کے لیے آپ کو خود معجزات کرنے ہوں گے۔(جاری ہے)۔
To explore the new Horizons of life change the Trends.
For your feedback send us email on admin@noormaier.net

 Also Read : Part 1 

Also Read : Part 3

Also Read: Part 4

Comments

comments

Comments are closed